14

نواز شریف کو ہر طرف سے گھیر لیا گیا ، اسلام آباد سے آنے والی یہ تازہ ترین خبر آپ کو دنگ کر ڈالے گی

لاہور (ویب ڈیسک)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ بیان کو ملک دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس ملک نے ان کو تین بار وزیراعظم بنایا اس کیخلاف بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہیے تھا، بار کے رہنما قمر زمان کے مطابق نواز شریف نے حلف کی خلاف ورزی کی ہے ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ بیان کو ملک دشمن۔دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف نے ممبئی حملوں سے متعلق اپنے متنازع بیان کے معاملے پر گذشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کو ‘غلط’ قرار دے کر مسترد کردیا۔احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ ‘قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ بڑا خوفناک اور بڑا تکلیف دہ ہے، میں اس اعلامیے کو مسترد کرتا ہوں’۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی چھان بین کے لیے ‘قومی کمیشن بننا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے’۔سابق وزیراعظم نے سوال کیا کہ ‘کون ہیں وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کو اس نہج تک پہنچایا ہے؟کون ہیں وہ لوگ جو پاکستان کے تحفظ کی بات کرتے رہے؟’ممبئی حملوں سے متعلق اپنے متنازع بیان پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کی باتیں کرنے والے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘اب فیصلہ ہوجانا چاہیے کہ کون محب وطن ہے اور کون غدار ہے’۔نواز شریف نے مزید کہا کہ ‘میں صرف پاکستانی شہری نہیں، قوم نے
مجھے وزیراعظم بھی بنایا، میں بہت کچھ جانتا ہو ’۔واضح رہے کہ حال ہی میں بھارتی میڈیا کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ایک پاکستانی انگریزی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو کو اچھالا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘کیا یہ اجازت دینی چاہیے کہ غیر ریاستی عناصر ممبئی جا کر 150 افراد کو ہلاک کردیں، بتایا جائے ہم ممبئی حملہ کیس کا ٹرائل مکمل کیوں نہیں کرسکے ؟سابق وزیراعظم کے اس متنازع بیان پر ملک کے سینئر دفاعی، سیاسی تجزیہ کاروں اور سیاست دانوں کا شدید ردعمل سامنے آیا، جس میں بیان کو غداری اور ملک دشمنی قرار دے دیا گیا۔دوسری جانب پاک فوج کی تجویز پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ متنازع بیان کو مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو متفقہ طور پر مسترد کردیا گیا تھا۔سابق وزیراعظم نے آج اکتوبر 2016 میں سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی ایک اور خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت بھی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں باتیں ہوئیں تھیں کہ گھر کو ٹھیک کریں، لیکن اس اجلاس میں میں نے جو باتیں کی اُس کو ڈان لیکس بنا دیا گیا جبکہ وہ تو حقیقت تھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں