286

(ن) لیگ کو ایک اور جھٹکا : کینسر کے باعث انتقال کر جانے والے (ن) رُکن اسمبلی ’ رجب علی بلوچ ‘ دراصل کون تھے اور ب انکی جگہ کون لینے جارہا ہے؟ دنگ کرنے والے حقائق سامنے آگئے

کنجوانی ( نیوز ڈیسک) فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کے نواحی قصبے کنجوانی سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی و وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے خوراک رجب علی بلوچ 49 سال کی عمر پا کر 13 مئی 2018ء کو وفات پاگئے۔وہ گزشتہ ایک سال سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کے باعث لاہور کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ان کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں ادا کی گئی جس میں لوگوں اور مقامی سیاستدانوں کی بڑی تعداد سے شرکت کی۔24 ستمبر 1969ء کو کنجوانی میں پیدا ہونے والے رجب بلوچ سابق وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم میاں ناصر بلوچ کے کزن اور سابق تحصیل ناظم تاندلیانوالہ علی گوہر کے بڑے بھائی تھے۔رجب سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ گارمنٹس کی تجارت سے وابستہ تھے۔مشرف دور میں جب الیکشن لڑنے کے لیے بی اے کی ڈگری کی شرط عائد ہوئی تو ان کے کزن میاں ناصر اور بھائی علی گوہر تعلیمی قابلیت کم ہونے کی وجہ سے الیکشن نہ لڑ سکے اور رجب علی کو میدان میں اتارا گیا۔2002ء کے انتخابات میں وہ پہلی بار ق لیگ کے پلیٹ فارم سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس انتخاب میں ان کے حریف ن لیگ کے پیر زادہ اشرف ضیاء تھے۔2008ء کے انتخاب میں بھی وہ ق لیگ کے پلیٹ فارم سے میدان میں اُترے مگر انہیں اپنی برادری کے سابق رکن قومی اسمبلی شہادت بلوچ کی بیٹی راحیلہ شہادت کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔2013ء کے انتخابات سے قبل وہ ق لیگ کو خیرباد کہتے ہوئے نون لیگ میں شامل ہو گئے اور اسی کے پلیٹ فارم سے انتخاب میں حصہ لیتے ہوئے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔رجب علیل ہونے کے باوجود نواز شریف کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے قومی اسمبلی گئے تھےبعد ازاں انہیں وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے خوراک کا قلمدان سونپ دیا گیا۔ان کے صاحبزادے روشان رجب علی کے بقول رجب بلوچ مخلص اور غریبوں کے لئے درد رکھنے والے انسان تھے جنہوں نے ہمیشہ وفاداری کے عَلم کو تھامے رکھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنی جماعت سے ان کی وفا داری کا اس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہو سکتا تھا کہ شدید علیل ہونے کے باوجود ناصرف وہ سینیٹ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے گئے بلکہ 21 نومبر 2017ء کو بطور پارٹی صدر نواز شریف کے حق میں بھی ووٹ ڈالا۔روشان نے کہا کہ وہ اپنے باپ کے خلاء کو کبھی پُر نہیں کر سکتے لیکن کوشش کریں گے کہ ان کے عوامی خدمت کے مشن کو جاری رکھ سکیں۔آئندہ الیکشن میں اُن کے جانشین کے حوالے سے کیے گئے سوال پر روشان نے کہا کہ “ہم نے تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا لیکن میری والدہ عائشہ رجب علی یا چچا بھائی علی گوہر میں سے کوئی ایک اُن کی جگہ لے سکتا ہے۔”تاہم اُن کے بقول وہ اس کا فیصلہ عوامی حلقوں کی رائے سے کریں گے۔مقامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر رجب علی کی بیوی انتخاب میں حصہ لیتی ہیں تو وہ مقامی لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں