193

کیا آپ جانتے ہیں ’’ برٹش‘‘ بلوچستان کسے کہتے ہیں اور آج یہ علاقہ پاکستان کے کون کونسے علاقوں پر مشتمل ہے؟ حیرت کے جھٹکے کے لیے تیار ہوجائیں

لاہور(ویب ڈیسک)سامراجی قوتوں اور اُن کے سیاسی جانشینوں نے تین مختلف معاہدوں کے ذریعے جو پشتون علاقے افغانستان سے علیحدہ کیے تھے اُن کو قومی شناخت دینے کی بجائے اُن پر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرتے ہوئے ایک حصے کو این ڈبلیو ایف پی، دوسرے کو قبائل اور تیسرے حصے کو برٹش بلوچستان کے استعماری ناموں سے منسوب کر دیا تھا۔1947ء میں ہندوستان کی تقسیم کے بعد یہ تمام علاقے عوامی رائے کے بغیر پاکستان میں شامل کر لیے گئے۔پاکستان جس کی بنیاد اقلیتی بنیادوں پر رکھی گئی تھی، بد قسمتی سے یہ ملک بذات خود مظلوم اقوام کے لیے سیاسی قید خانہ بنادیا گیا۔روز اول سے لوگوں کو اُن کے جائز بشری حقوق سے محروم رکھنے کے لیے حیلے بہانے تراشے گئے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کو نو سال بغیر کسی آئین کے چلایا گیا۔بعد میں بحالت مجبوری جو آئین تشکیل دیے گئے ان کا مقصد استعماری مفادات کی نگہبانی تھا۔ان میں عوامی ضروریات کو مقدم رکھنے کی بجائے بالا دست قوتوں کے مفادات کا خیال رکھا گیا۔سامراجیت نوازی میں’اپنوں‘ نے بھی دانستہ طور پر جو فاش سیاسی غلطیاں کیں ان کا خمیازہ اج پوری قوم کو بھگتنا پڑرہاہے۔گزشتہ 70 سالوں سے اپنے حقوق کے لیے کمر بستہ بلوچستان کے پشتونوں کا نہ تو کوئی سُننے والا ہے اور نہ ہی ملکی سیاسی پارٹیاں بلوچستان کی تاریخ سے باخبر نظر آتی ہیں۔بلوچستان کے پختون نہ صرف تاریخی طور پر اپنے افغانی بھائیوں سے جبری طور پر علیحدہ کیے گئے بلکہ انہیں موجودہ صوبہ پشتونخوا، اٹک، میانوالی اور مرکزی پشتونخوا یعنی فاٹا سے بھی دور کر دیا گیا۔پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد موجودہ بلوچستان کی صوبائی حثیت نہیں تھی۔ون یونٹ سے پہلے موجودہ بلوچستان کے بلوچ علاقے قلات سٹیٹ کے زیر انتظام تھے۔پشتون علاقوں کو تین مختلف معاہدوں کے زریعے افغانستان سے علیحدہ کر کے ان علاقوں کو 1878ء میں کمشنری صوبے کا درجہ دیا گیا جس کو بعد میں برٹش بلوچستان کا استعماری نام سے دیا گیا۔برٹش بلوچستان میں ماسوائے مری اور بگٹی قبائل کے باقی آبادی پشتونوں پر مشتمل تھی۔بلوچ قلات سٹیٹ اور دیگر ریاستوں میں اپنی آبائی وطن پر رہ رہے تھے۔پاکستان بننے کے بعد استعماری اور سامراجی سوچ رکھنے والوں نے جنرل ایوب خان کی شکل میں 30 دسمبر 1955ء کو ون یونٹ کے نام پر سندھ، پنجاب، پشتونخوا اور کمشنری صوبے کو ایک متحدہ صوبہ میں ضم کردیا۔تاہم جنرل یحیی خان کے دور میں ون یونٹ کی ضرورت نہیں رہی اور اس کا خاتمہ کرکے باقی سارے صوبے تو بحال کر دیے گئے لیکن کمشنری صوبے کو بحال کرنے کی بجائے اس کی صوبائی حثیت ختم کرکے موجودہ بلوچستان مین شامل کر دیا گیا۔اس اقدام سے اکثریت اقلیت میں بدل گئی۔افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اس ناانصافی کے خلاف ماسوائے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے، کسی پشتون رہنما نے مذمت نہیں کی بلکہ 1973ء کے آئین پر تو ایک ایسے پشتون رہنما نے دستخط کیے جن کی بلوچستان اور فاٹا میں کوئی نمائندگی نہیں تھی۔جنرل (ر) یحی خان نے اقتدار سنبھالا تو اُس نے ون یونٹ کو تحلیل کر کے صوبوں کو پرانی حالت میں بحال کر دیا تاہم اس نے ایک بار پھر سیاسی غلطی کرتے ہوئے کمشنری صوبہ یا برٹش بلوچستان (جو موجودہ بلوچستان کے پشتون علاقوں پر مشتمل تھا) بحال نہ کیا تھا بلکہ اُس کو موجودہ بلوچستان میں ضم کردیا۔اس انضمام پر بھی صرف خان شہید عبد الصمد خان اچکزئی نے آواز اٹھائی۔برٹش کمشنری پشتون صوبے کو قلات سٹیٹ میں ضم کرنے کے نتیجے میں موجودہ بلوچستان کو صوبے کا دردجہ دے دیا گیا۔اس مرجر کا یہ نقصان ہوا کہ وسائل رکھنے کے باوجود جہان بلوچ کسمپرسی کا شکار ہیں وہیں پشتون بھی۔مشترکہ صوبے میں پشتون من حیث القوم معاشرتی و سماجی نا برابری کی وجہ سے مختلف مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ون یونٹ ہو یا پھر 1973ء کا آئین، پشتون قوم اغیار کی مکاری، اپنوں کی بے حسی اور سیاسی مصلحت کی وجہ سے تقسیم در تقسیم رہی ہے۔آئین کے تشکیل کے زمانے میں جہاں مقتدر قوتوں کے اپنے عزائم تھے وہیں کچھ پشتون مذہبی و قوم پرست قوتوں کی مجرمانہ غفلت اور دانستہ مظالم بھی شامل تھے۔مفتی محمود صاحب سے تو اس لیے گلہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایک مذہبی لیڈر تھے اور اُن کی ترجیحات کچھ اور تھیں جبکہ ولی خان بظاہر پشتون قومی رہنما تھے۔سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود اُنھوں نے پشتونوں کی ایک بڑی آبادی اور تاریخی سر زمین خیبر پشتونخوا کے ساتھ جغرافیائی طور پر الحاق کر کے پشتونوں کو ایک اکائی میں لانے کے بجائے اُس وقت کے بلوچ رہنما غوث بخش بزنجو، عطاللہ مینگل و دیگر بلوچ رہنماؤں کو خوش کرنے کی غرض سے بھیانک سیاسی غلطی کی جس کے نتائج آج سب بھگت رہے ہیں۔اُس زمانے میں بلوچستان کی کُل ابادی راولپنڈی شہر کے برابر بھی نہیں تھی لیکن یہ ولی خان ہی کی سیاسی ’بصیرت‘ تھی کہ وہ بلوچ رہنما جو یونین کونسل کا ممبر بھی نہیں بن سکتے تھے، مگر ولی خان کی بدولت پشتونوں کی ایک کثیر ابادی اُن کے ساتھ شامل ہونے کے نتیجے میں ایک صاحب بلوچستان کے گورنر اور دوسرے وزیرا علیٰ بنائے گئے۔لالا کی اس بے نیازی کا سیاسی نقصان یہ ہوا کہ آج بلوچ سیاسی رہنما صوبے میں پشتونوں کو اقلیت شمار کرتے ہیں اور کسی بھی قیمت پر صوبے میں پشتون وزیر اعلیٰ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مردم شماری ہو، فنڈز یا دیگر وسائل کی تقسیم کا معاملہ، بلوچستان کے پشتون اپنے جائزحقوق کے لیے بلوچوں کے ساتھ سیاسی طور پر دست و گریبان ہیں۔پاکستان میں قومی برابری کے سوال، وسائل پر اختیار یا قوموں کو اپنے جائز حقوق پر حق نا ہونے کے معاملے پر جہاں تمام اقوام کو تحفظات رہتے ہیں۔پشتون رہنماؤں نے 1998ء میں بلوچستان میں ہونے والی مردم شماری کا جس طرح بائیکاٹ کیا تھا وہ اچھا فیصلہ تھا جس کے حالیہ مردم شماری میں بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں۔اُس زمانے میں مردم شماری کے وقت قوم پرست رہنما عطاللہ مینگل صاحب صوبے کے وزیر اعلیٰ تھے، اس لیے درست مردم شماری کا امکان بہت کم تھا۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ 1981ء اور 1998ء میں بلوچستان میں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد ہونے کے باوجود بلوچ رہنماؤں نے ان کی موجودگی کو چیلنج نہیں کیا تھا لیکن آج جب ان مہاجرین کی ایک کثیر تعداد صوبے سے واپس افغانستان جا چکی ہے اور جو باقی رہ گئے ہیں وہ اقوام متحدہ کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں، بلوچ رہنما ان کی موجودگی پر اعتراض اٹھا رہے ہیں۔ان لوگوں کو تربت، خاران، نوشکی و چاغی وغیرہ میں غیر قانونی طور پر ایران سے انے والے اور افغانستان سے آنے والے بلوچ و ہزارہ مہاجر نظر نہیں آرہے بلکہ صرف پشتون مہاجر ہی نظر آتے ہیں۔مردم شماری پر روز اول سے ہی محروم اقوام کے اعتراضات رہے ہیں۔بلوچستان میں ہمیشہ سےپشتون اور بلوچ علاقوں میں دو طرح کی مردم شماری ہوتی آرہی ہے۔1973 ء کے آئین کی تشکیل کے بعد صوبے کی ڈیموگرافک پوزیشن سازش کے تحت تبدیل کر دی گئی تھی۔پشتون ابادی کو قلیل ظاہر کرنے کے لیے بلوچستان کے پشتون اکثریت والے علاقوں کی حلقہ بندی اس طرح کی گئی کہ پشین کو کوئٹہ سے علیحدہ کیا گیا جبکہ پنج پائی کے پشتون علاقے بھی کوئٹہ سے علیحدہ کرکے بلوچ اکثریتی علاقے مستونگ میں شامل کر دیے گئے۔اسی طرح چاغی اور نوشکی کے بلوچ علاقے کوئٹہ میں شامل کر دیے گئے۔بلوچ علاقے لہڑی کو پشتون ایریا سبی میں ڈال دیا گیا۔ستم ظریفی تو یہ ہوئی کہ کوہلو کے پشتون قبیلے زرکون کو بلوچ ظاہر کرکے بلوچوں میں شمار کر لیا گیا۔بلوچ علاقوں میں سردار اور نواب جو اعداد و شمار مردم شمارے کے عملے کو دیتے ہیں وہی قابل قبول ہوتے ہیں لیکن پشتون علاقوں میں چونکہ سردار نواب کا نظام صدیوں پہلے نا پید ہوچکا ہے، اس لیے وہاں عملہ گھر گھر جا کر سروے کرتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ تمام مردم شماریوں میں صوبے کے پشتون علاقے تعلیمی اداروں میں مخصوص کوٹے، سینٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں اور دیگر ترقیاتی فنڈز سے محروم رکھے گئے۔برٹش بلوچستان یعنی پشتون کمشنری صوبے کا بلوچ علاقوں میں انضمام کرنے کے بعد صوبے کے پشتونوں کو نا صرف اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازشیں جاری ہیں بلکہ ان کے جائز حقوق بھی نہیں تسلیم کیے جارہے۔بلوچستان میں وسائل برابری کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیے جارہے بلکہ جو حقوق بلوچ لیڈر شپ پنجاب سے مانگ رہی ہے، اُنھی حقوق سے بلوچستان کے اندر پشتونوں کو محروم رکھا گیا ہےترقیاتی فنڈز، ہسپتال، تعلیمی ادارے و دیگر سہولیات پشتون علاقوں کی بجائے بلوچ بیلٹ کو دینے کی حکمت عملی ہے۔کوشش ہے کہ ہر مردم شماری میں پشتونوں کی تعداد کو پہلے سے کم ظاہر کیا جائے، انتخابی حلقہ بندیوں میں پشتون اکثریتی علاقوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے۔ان سیاسی اختلافات اور مرجر کی وجہ سے پیدا ہونے والی نا برابری سے دونوں برادر اقوام دست و گریبان ہیں۔1991ء میں تو دونوں اقوام میں خونی فسادات بھی ہو چکے ہیں جب بلو چ قوم پرستوں نے پشتو نخوا میپ کے مرکزی دفتر پر حملے کرکے پانچ سرکردہ لیڈر شہید کر دیے تھے۔اس سیاسی بے چینی کی وجہ یہ ہے کہ پشتون علاقوں کو عوام کی مرضی کے مطابق خیبر پشتونخوا کے ساتھ ملانے یا الگ صوبہ بنانے کی بجائے غیر فطری طور پر بلوچ علاقوں کے ساتھ مرج کر کے موجودہ بلوچستان صوبہ بنایا گیا۔مرجر کی اس تاریخی جرم میں چارسدہ کی پشتون لیڈر شپ شریک تھی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں